دل تنگ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ملول، غمگینن، اداس، گھبرایا ہوا، بے زار۔  قبائے غنچۂ دل تنگ پھر سکتی ہے لبوں پہ بن کے تبسم خوشی جھلکتی ہے      ( ١٩٢٧ء، مطلع انوار، ٩٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ فارسی ہی سے اسم صفت تنگ لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔